ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شمالی کینرا لوک سبھا سیٹ۔ دیشپانڈے کا الیکشن لڑنے سے انکار۔ ہائی کمان کا حکم ہوتوہری پرساد تیار

شمالی کینرا لوک سبھا سیٹ۔ دیشپانڈے کا الیکشن لڑنے سے انکار۔ ہائی کمان کا حکم ہوتوہری پرساد تیار

Tue, 05 Mar 2019 12:50:32    S.O. News Service

کاروار 5؍مارچ (ایس اونیوز)پارلیمانی الیکشن قریب آتے ہی سیاسی ہلچل بڑھنی شروع ہوگئی ہے۔ اس دوران کانگریس پارٹی سے شمالی کینرا سیٹ پر امیدواری کے بارے میں بھی مطلع کچھ صاف ہوتا ہوا لگ رہا ہے۔ کیونکہ اس سیٹ کے لئے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جانے والے موجودہ ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے بالکل واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی الیکشن میں اب امیدوار نہیں بنیں گے۔ جبکہ دوسرے مضبوط دعویدار سمجھے جانے والے راجیہ سبھا رکن بی کے ہری پرساد نے کہہ دیا ہے کہ اگر ہائی کمان کا حکم ہواتو وہ میدان میں اترنے کے لئے تیار ہیں۔

جب ایک اخباری نمائندے نے ریوینیو منسٹر آر وی دیشپانڈے سے پوچھا کہ’’ آپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ا س مرتبہ کینر ا سیٹ سے آپ کانگریس کے امیدوار ہونگے‘‘تو جواب میں دیشپانڈے نے کہا کہ ’’ اس حلقے سے کون امیدوار ہوگا اس بارے میں ابھی کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔ اور جہاں تک میرا تعلق ہے ، مجھے پارلیمانی ہی نہیں بلکہ کسی بھی انتخاب میں امیدوار بننے کے لئے اب دلچسپی نہیں ہے۔ اب تک اس حلقے کے ووٹروں کی مہربانی سے مجھے سب کچھ مل گیا ہے۔آئندہ اس علاقے کے عوام کے لئے کام کرنے کی تمنا میرے دل میں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’سوموار کے دن بنگلورو میں لوک سبھا امیدواروں کے تعلق سے پارٹی کی میٹنگ تھی۔ ناگزیر حالات کی وجہ سے میں میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکا۔اس میٹنگ میں کیا بات چیت اور فیصلے ہوئے ہیں اس کا مجھے پتہ نہیں ہے۔فی الحال میں رکن اسمبلی ہوں۔ ریاستی وزیر بنادیا گیا ہوں۔ ایسی حالت میں پارلیمانی الیکشن کے لئے اترنے کے بارے میں میں نے سوچا بھی نہیں ہے۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پارٹی ہائی کمان انہیں امیدوار بنانے کا فیصلہ کرتاہے تو کیا کریں گے؟ تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’تب کی بات تب دیکھیں گے۔ اس وقت میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘

ادھر دوسری طرف راجیہ سبھا کے رکن بی کے ہری پرساد نے سداپور میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ریاست میں مخلوط حکومت ہے اور پارلیمانی الیکشن کانگریس اور جے ڈی ایس مشترکہ طور پر لڑنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔جے ڈی ایس کی طرف سے 12سیٹوں کا مطالبہ ہورہا ہے۔ ان سیٹوں میں کینرا سیٹ بھی ہوسکتی ہے۔ سیٹوں پر جب تک قطعی فیصلہ دونوں پارٹیوں کے درمیان نہیں ہوتا ہے تب تک کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ ہری پرساد نے کہا کہ ’’البتہ یہ سیٹ کانگریس کے لئے مختص ہوجاتی ہے تو پھرعوام کا خیال ہے کہ اس پر آر وی دیشپانڈے یا مجھے الیکشن لڑنا چاہیے۔اوراگر دیشپانڈے امیدوار بننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو ہائی کمانڈ کا حکم ہونے پر میں امیدوار بننے کے تیار ہوں۔ اہم یہ ہے کہ مودی کو دوبارہ برسراقتدار نہیں آنا چاہیے۔ دستور بدلنے کی بات کرنے والوں کو ہی بدل دینا چاہئے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں نے وزیر دیشپانڈے ، سابق ایم پی مارگریٹ آلوا، ضلع کانگریس صدر بھیمنا نائک، رکن اسمبلی شیورام ہیبار، سابق بھٹکل ایم ایل اے منکال وئیدیا، سابق کاروار ایم ایل اے ستیش سائیل اور دیگر کانگریسی لیڈروں سے بات چیت کی ہے۔اس وقت سابقہ پارلیمانی الیکشن والی صورتحال نہیں ہے۔ اب ہم سب ایک ہوکر الیکشن لڑنے کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘
 


Share: